نئی دہلی6 اکتوبر( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )دہلی میں وشو ہندو پریشد کی میٹنگ ختم ہو گئی ہے۔ جس فیصلہ کیا گیا ہے کہ مرکز میں مودی حکومت پر ایودھیا میں رام مندر کے لئے قانون بنانے کا دباؤ ڈالا جائے۔ اجلاس میں حصہ لینے والوں سنتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت جلد ہی رام مندر کی تعمیر کے لئے آرڈیننس لائے اور اگلے پارلیمنٹ کے سیشن میں آرڈیننس پر قانون بنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی حکومت کے وقت گو رکشا کا قانون بنے، دفعہ 370 ہٹے، یکساں سول کوڈ کا قانون بنے اوررام جنم بھومی پر مندر کی تعمیر ترجیحی طورپر شامل رہے ۔ اب کوئی تاخیر میں اس میں قبول نہیں ہے۔ ذرائع کی حوالے سے خبر ہے کہ سنتو ں کی اعلی اختیاری کمیٹی کے اجلاس میں کئی سنتوں نے رام مندر کی تعمیر پر مرکزی حکومت کے رخ پر ناراضگی ظاہر کیا اور کہاں کہ اگر مرکزی حکومت اگر کورٹ میں زیر التواء ہونے کے بعدایس سی /ایس ٹی ایکٹ کو پارلیمنٹ سے قانون بنا سکتی ہے ساتھ ہی ٹرپل طلاق بل پر آرڈیننس لا سکتی ہیں تو رام مندر کی تعمیر کے لئے آرڈیننس کیوں نہیں لا سکتی ہے۔ اکھل بھارتیہ سنت کمیٹی کے جنرل سکریٹری سوامی جیتندر آنندنے کہا کہ رام جنم بھومی کا فیصلہ 2019 سے پہلے نہ ہو پائے اس کے لئے ہندو مخالف طاقتوں کی جانب زبردست سازش ہو رہی ہے۔ وہیں سوامی جنمیانند نے کہا کہ رام جنم بھومی اس سرکار کے خیال سے باہر ہے۔ بی جے پی پالن پور تجویز کو یاد کرے۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر کا انتظار کرتے کرتے کئی لوگ ’’جنت‘‘ سدھار گئے۔